18 اپریل 2015 - 07:19
بحران یمن کا حل، ایران کی چار نکاتی تجویز

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے بحران یمن کے حل کے لئے چار نکاتی تجویز اقوام متحدہ کو پیش کی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر غلام علی خوشرو نے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کو ایران کے وزیر خارجہ کا خط پیش کیا ہے جس میں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بحران یمن کے حل کے لئے چار نکات پر مشتمل تجویز پیش کی ہے- غلام علی خوشرو نے اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل یان الیاسون سے ملاقات میں انہیں وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا خط پیش کیا- انہوں نے یان الیاسون کے ساتھ یمن کے بحران پر تبادلہ خیال بھی کیا- واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بان کی مون کے نام خط میں یمن کے شدید بحرانی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن پر اشتعال انگیز بیرونی حملوں میں ابتدائی ترین حقوق پامال کئے جا رہے ہیں جن کی ضمانت عالمی سطح پر دی گئی ہے- اس خط میں کہا گیا ہے کہ ان ہی حملوں کی وجہ سے یمن کے حالات بگڑتے جا رہے ہیں- محمد جواد ظریف نے اپنے خط میں یمن پر حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور بالخصوص طاقت کے استعمال پر پابندی کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا- انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ دیگر ملکوں کی افواج یمن پر حملے کر کے یمن کی بنیادی تنصیبات جیسے اسپتال، اسکول، ‎سڑکیں، غذائی اشیاء تیار کرنے والے کارخانے اور بجلی گھروں پر بمباری کر کے یمن کے باشندوں کو ابتدائی ترین ضروریات سے محروم کر رہی ہیں-
بان کی مون کے نام وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کے خط میں آیا ہے کہ یمن کے رہائشی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں پر حملوں میں نہتے عوام بالخصوص خواتین اور بچے جاں بحق اور زحمی ہو رہے ہیں- ان کے خط میں آیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ یمن کے بحران کو فوجی طریقوں سےحل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس بحران کو حل کرنے کے لئے ایسا ماحول بنایاجائے جس میں یمن کی تمام سیاسی پارٹیاں بیرونی مداخلت کے بغیر قومی اتحاد کی وسیع البنیاد حکومت تشکیل دے سکیں-
وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس ھدف تک پہنچنے کے لئے اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی اقدار کے دائرہ کار میں چار تجویزیں پیش کرتا ہے- پہلی تجویز یہ ہے کہ یمن میں فوری طور پر جنگ بندی عمل میں آئے اور بیرونی ملکوں کے حملے روکے جائیں، دوسری یہ کہ فوری طور پر یمن کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد بھیجی جائے جس میں طبی امداد بھی شامل ہو-
تیسری تجویز یہ ہے کہ یمن میں قومی مذاکرات از سرنو شروع کئے جائیں جو عوام کی نگرانی میں ہوں اور اس میں یمن کے تمام گروہ اور سیاسی پارٹیاں شریک ہوں- چوتھی تجویز یہ ہے کہ یمن میں وسیع البنیاد قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جائے- ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے بان کی مون کے نام اپنے خط میں امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اور متحارب گروہوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کر کے یمنی عوام پر جاری اندھا دھند بمباری ختم کرانے کے لئے آسانیاں پید کرے گا اور اس المناک بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے بامقصد مذاکرات شروع کروائے گا-

.......

/169